یہ جملہ بظاہر ایک ہنسی مذاق کی بات لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے ایک ہلکی سی اداسی بھی چھپی ہوئی ہے۔ “مجھے دوستوں کے معاملے میں کبھی قسمت کا ساتھ نہیں ملا، جب میں جاگتا ہوں تو وہ سو رہے ہوتے ہیں” کہنا دراصل وقت، ترجیحات اور رشتوں کے فرق کی طرف اشارہ ہے۔ زندگی کی مصروفیات ہمیں ایک ہی دائرے میں رکھ کر بھی ایک دوسرے سے دور کر دیتی ہیں۔ ہم ایک ہی شہر میں ہوتے ہیں، مگر ہمارے معمولات ہمیں مختلف دنیاؤں میں بانٹ دیتے ہیں۔
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم بات کرنا چاہتے ہیں، دل ہلکا کرنا چاہتے ہیں، مگر سامنے والا اپنی نیند، مصروفیت یا دنیا میں گم ہوتا ہے۔ تب ہنسی کے ساتھ کہی گئی یہ بات دراصل تنہائی کا ایک نرم سا اظہار بن جاتی ہے۔ ہم شکوہ بھی نہیں کرنا چاہتے، اس لیے اسے مذاق میں بدل دیتے ہیں، تاکہ بات دل پر بھاری نہ لگے۔
دوستی صرف ساتھ بیٹھنے کا نام نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے وقت اور کیفیت کو سمجھنے کا نام ہے۔ ہر دوستی میں یہ مرحلہ آتا ہے جہاں وقت کا فرق حائل ہو جاتا ہے۔ اصل امتحان یہ نہیں کہ دوست ہر لمحہ ساتھ ہوں، بلکہ یہ ہے کہ جب جاگیں تو ایک دوسرے کو یاد کریں، چاہے جواب کچھ دیر بعد ہی کیوں نہ آئے۔
آخرکار انسان یہ سیکھ لیتا ہے کہ قسمت سے زیادہ اہم نیت اور احساس ہوتے ہیں۔ اگر نیت سچی ہو تو جاگنے اور سونے کے یہ فاصلے بھی مسکراہٹ میں بدل جاتے ہیں، اور دوستی اپنی جگہ قائم رہتی ہے، چاہے وقت کا فرق ہی کیوں نہ ہو۔